20

ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی


ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی جو جا معہ میں پڑ ھتی تھی ایک دن وہ جا معہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اتر تے وقت ایک لڑ کے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ و جمیلہ تھی لڑ کے کو پسند آ ئی اس نے پتہ کیا لڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جا تا نماز تک تلاو ت قرآن میں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمو لات کا پا بندرہا اسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواشہ کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیں گے منا سب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پو چھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتا یا اس نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عما ئد بن محلہ کے ساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑ کے کے بارے میں پو چھا انہوں اسی لڑ کے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑ کے کی دین داری کو دیکھ رشتہ لڑ کی سے مشورہ کرنے اور رضا مندی ظاہر کرنے پر قبول کیا۔

چنا نچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑ کے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دو ماہ بعد لڑ کے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آ نے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نما زیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا تھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت ، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جا کر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کے ساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معا ملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا قاضی نے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا۔ لڑ کا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑ کے نے ایک جادو گر سے مدد حاصل کر نے کا فیصؒہ کیا جادوگر نے بڑے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا لڑ کے نے سارے پیسے پیشگی ادا کیے کچھ دن گزرنے کے بعد جادو گرنے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑ کے نے فی الفور وہ بھی ادا کیے اور کہا کہ کام ہو جا نا چاہیے پیسوں کا فکر نہ کر یں۔

ایک ماہ کے بعد جادو گر نے لڑ کے کو بتا یا آجا ؤ اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جب وہ لڑ کا جادو گر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے لڑ کے نے حیرت زدہ انداز میں پو چھا یہ کیا کر رہے ہو جادو گر نے کہا مجھے قتل کر دو ورنہ دو قتل کر دئیے جا ئیں گے لڑ کے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہٰذا میرے پیسے دے دو اس نے پیسے دئیے لڑ کا پیسے لے کر بھا گنے لگا پو لیس والے نے لڑ کے کو پریشان حالت میں بھا گتے ہوئے دیکھ کر گرفتار کر لیا یسے ضبط کر لیے لڑ کے کے توسط سے پو لیس جادو گر تک پہنچ گئے جادو گر نے پو لیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑ یں گے پو لیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کو جادو گر نے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمداد با لشیا طین کے ذریعے جادو کا عمل کر تے ہیں۔

اور کا میاب ہو جاتے ہیں لیکن اس لڑ کی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پر فرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اس کے بعد میں نے رئیس الشیا طین سے مدد لینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھر کے پاس گئے تو وہاں فرشتے کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گر وہ مارنے پر تلے ہیں۔ قاضی حٰران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلا یا جب امام صاحب تشریف لا ئے تو انہوں نے پو چھا کیا عمل کرتے ہو کہ فرشتے آپ کے گھر کے حفاظت پر مامور ہیں اس نے پو چھا کیوں کیا ہوا کیونکہ اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔ جب انہوں نے امام صاحب کو پوری کہانی سنائی تو خطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس پر جنات اور شیا طین اثر نہیں ہوتا نیک خاندان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک ایسے انتظام فر ما تا ہے۔

Sharing is caring!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply