52

شادی کی پہلی رات میں نے ہمبستری سے انکار کردیا


شادی کی پہلی رات میں نے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھتے ہوۓ صاف الفاظ میں بتا دیا مجھے معاف کر دو میں حق زوجیت ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوں,صرف اپنی والدہ اور بہنوں کی خوشی کی خاطر خود غرض بن گیا ہوں اس نے وہ پگ میرے سر پر رکھتے ہوۓ کہا آپ جیسے بھی ہیں میرا سہاگ ہیں میرا نصیب ہیں مجھے اب آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے اس دن کے بعد اس اللہ کی بندی نے میرے ساتھ تیس سال گذارے میرے گھر والوں کی ہر بات برداشت کی بانجھ ہونے کے طعنے بھی سنے مگر میرا پردہ رکھا۔

قبرستان میں قدم رکھتے ہی ایک مہک نے استقبال کیا یہ خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھی اور نہ محسوس کی تھی ۔

میں ہر جمعے کو صبح فجر کی نماز کے بعد اپنے والد صاحب کی قبر پر جاتا فاتحہ خوانی کرتا اور وہاں سے ہی اپنی آفس چلا جاتا ایک عرصہ ہو گیا تھا مگر آج میں نے قبرستان میں ایک نئی خوشبو محسوس کی جو مجھے بے چین کر رہی تھی یہ خوشبو کسی طرح سے بھی دنیاوی خوشبو نہیں لگ رہی تھی بہرحال میں والد صاحب کی قبر پر پہنچا تو ان سے چند فاصلے پر ہی ایک نئی قبر بنی تھی تازہ پھول اور چادر سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ دو یا تین دن پہلے ہی یہ قبر بنی ہے والد صاحب کی قبر سے فارغ ہو کر جاتے ہوۓ اس قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے رک گیا فاتحہ خوانی کے دوران محسوس کیا خوشبو اس قبر سے ہی آ رہی ہے کنفرم کرنے کے لیے قبر کی مٹی مٹھی میں بھری تو ایک دم ٹھٹھک گیا قبر کی مٹی ٹھنڈی تھی جیسے نم ہو جبکہ مٹی بالکل خشک تھی اور کمال حد تک ٹھنڈی تھی بہرحال مٹی کو وہیں قبر پر پھینک دیا اور ہاتھ جھاڑنے کے بعد چل پڑا بھائ کی دکان کھولی پہلا گاہگ آیا اس کو سامان دیا تو اس نے کہا زمان بھائی آج خوشبو تو بہت کمال کی لگائی ہے

خوشبو؟؟؟ کون سی خوشبو؟ تو اس نے کہا زمان بھائی خوشبو آپ لگاتے ہو اور پوچھتے ھم سے ہو کون سی خوشبو بہت بھلے مانس آدمی ہو آپ بھی زمان بھائی یہ کہتے ہوۓ وہ چل پڑا ۔

میں نے جب آپنے ہاتھ کو سونگھا تو وہ ہی خوشبو میرے ہاتھ سے آ رہی تھی تمام دن میں اس خوشبو کو محسوس کرتا رہا ہاتھ دھونے کے باوجود بھی میرا ہاتھ معطر رہا اگلے دن ہفتے کو بھی میں نہ چاہتے ہوۓ قبرستان چلا گیا والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد اس قبر پر فاتحہ خوانی کی کس کی قبر ہے یہ کون ہے جو اس قدر نیک ہے جس کی قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہے ایسا کون سا عمل کر دیا کہ اتنا بڑا انعام پا لیا اس بات نے مجھے بے چین سا کر دیا گورکن سے اس قبر کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ خاتون کی قبر ہے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی کہ عورت کو اس قدر شاندار مقام کیسے ملا ۔

اگلے دن اتوار تھا دیر تک سونے کی عادت ہونے کے باوجود صبح فجر کی نماز کے وقت اٹھ کھڑا ہوا اور قبرستان روانہ ہوگیا قبرستان میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں اسی خاتون کی قبر پر ایک باریش آدمی قرآن خوانی کر رہا ہے میں والد صاحب کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنے لگا فاتحہ خوانی کے بعد میں۔نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو اب دعا مانگ رہا تھا جیسے ہی وہ دعا سے فارغ ہوا تو باہر کی جانب چل پڑا اس کو جاتے دیکھ کر میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا

جیسے ہی وہ گیٹ سے باہر نکلا میں نے آواز دے دی سر بات سنیں ایک منٹ پلیز

جی فرمائیں

سر میں معذرت چاہتا ہوں میں نے آپ کو تکلیف دی مگر میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو۔

جی آپ پوچھیں کیا بات ہے انتہائی محنت سے اس شحض نے جواب دیا

شکریہ سر جزاک اللہ میں دراصل جاننا چاہ رہا تھا یہ کن کی قبر ہے جہاں آپ قرآن خوانی کر رہے تھے اگر آپ مناسب سمجھیں تو بتا دیجئے۔

یہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس نے سوال کیا

دراصل اس قبر سے آنے والی خوشبو نے مجھے بے چین کر دیا ہے ایسی خوشبو میں نے آج تک محسوس نہیں کی مجھے یہ دنیاوی خوشبو نہیں لگتی میں جاننا چاہ رہا تھا کہ صاحب قبر نے ایسا کون سا عمل کہ کہ یہ مقام ملا کہ قبر ٹھنڈی اور خوشبودار ہو گئی ۔

یہ سن کر اس شحض نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا قبر ٹھنڈی اور خوشبودار کیوں نہ ہو اس نے اللہ تعالیٰ کو راضی ہی ایسے کیا ہے۔

جی میں یہ ہی جاننا چاہ رہا تھا کہ ایسا کون سا عمل ہے جس سے یہ سعادت نصیب ہوئی

تو اس نے بتایا کہ یہ میری زوجہ کی قبر ہے تیس سال ھماری رفاقت رہی میں چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں میری بہنوں اور ماں کو میرا سہرا دیکھنے کا بے حد شوق تھا سرکاری نوکری ملتے ہی چاند سی دلہن کی تلاش شروع کر دی گئی یوں دنوں میں لڑکی کی تلاش کا کام مکمل ہوا شادی ہوئی اور ماں بہنوں نے اپنے ارمان دل کھول کر پورے کیے شادی کی پہلی رات میں نے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھتے ہوۓ صاف الفاظ میں بتا دیا مجھے معاف کر دو میں حق زوجیت ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوں میدیکلی طور پر مکمل ان فٹ ہوں صرف اپنی والدہ اور بہنوں کی خوشی کی خاطر خود غرض بن گیا ہوں اس نے وہ پگ میرے سر پر رکھتے ہوۓ کہا آپ جیسے بھی ہیں میرا سہاگ ہیں میرا نصیب ہیں مجھے اب آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے اس دن کے بعد اس اللہ کی بندی نے میرے ساتھ تیس سال گذارے میرے گھر والوں کی ہر بات برداشت کی بانجھ ہونے کے طعنے بھی سنے مگر میرا پردہ رکھا اللہ تعالیٰ کیسے اس کی قبر کو ٹھنڈا اور خوشبودار نہ کرے جس نے اتنی پاکباز زندگی گذاری ہو ۔۔

اس شحض کی تمام بات سن کر اس خاتون پر رشک آنے لگا جس نے دنیا میں صبر کیا اور اعلی مقام حاصل کیا آج کل کے دور میں کچھ بھی حاصل کرنا کیا مشکل ہے عورت ذرا سی بیمار مرد حلال حرام کی تمیز کیے بغیر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گذرتے ہیں تھوڑا سا فرق لگنے پر بیوی شوہر کو کھری کھری سنا دیتی ہے شوہر بیمار ہو تو تعلق تک استوار کر لیتی ہے معاشرتی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے صبر کا دامن ھم نے چھوڑ دیا ہے

اللہ تعالیٰ ھمیں دین کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

پوسٹ اچھی لگے تودوسروں کی بھلائ کے لئے شیئر ضرور کریں

الله پاک ھم سب کو ہدایت دے، اور اپنے ماں باپ کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرماتے. آمین

Sharing is caring!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply